Subscribe Us

Header Ads

بھارت کی مشہور و معروف اسلوب کی کہانی کار و مترجم زکیہ مشہدی کی دو کلاسیک کہانی *موت ڈاٹ کام مالیگاوں* بھارت *Maut. ‏Com. ‏Malegaon* احمد نعیم! ‏

گڑیا________*

وہ گھر سے چلی تو جھٹپٹا ہو چلا تھا۔ ٹرین رات کے نو بجے تھی جیسا کہ ان لوگوں نے بتایا تھا۔ ٹرین کیا ہوتی ہے یہ وہ جانتی تھی۔ ایک دو ریل گاڑیاں اس کے گاؤں کے کنارے کنارے گنے اور ارہر کے کھیتوں کے پاس سے گزرا کرتی تھیں۔ وہ کہاں سے آتی ہیں اور کہاں جاتی ہیں اس پر اس نے کبھی غور کرنے کی ضرورت نہیں سمجھی تھی۔ کبھی کسی ٹرین سے سفر کرنے کا موقعہ بھی نہیں ملا تھا۔ اللہ میاں کے پچھواڑے والے اس گاؤں میں اس کا کچا، پھوس کے چھپر والا گھر ایسی جگہ تھا جہاں سے بس اسٹینڈ تک جانے کے لئے بھی کوئی سواری نہیں تھی۔ کچھ دور پیدل چلنا تھا پھر بس پر چڑھ کر وہاں پہونچنا تھا جہاں سے ٹرین پکڑی جا سکتی تھی وہ بس پر چڑھی تھی اور بس اڈہ گھر سے اتنا قریب تھا کہ وہاں کئی مرتبہ یوں بھی جا نکلتی تھی وہاں ایک بڑا سا تالاب تھا جس میں لوگ بھینسوں کو نہلاتے اور پاس کھڑے تاڑ کے درختوں سے تاڑی اتارتے۔ بھینسیں اور بطخیں اور سور ادھر ادھر منہ مارتے رہتے۔ درمیان میں کٹ کٹ کٹاک کرتی مرغیاں گھس آتیں بکریاں دراندازی کرتیں۔ کوئی کسی کو کچھ نہ کہتا۔ اسے کبھی یہ نہیں محسوس ہوا تھا کہ اس کی زندگی میں ان چیزوں کی کوئی اہمیت ہے۔ وہ تو بس وہاں تھیں، ہمیشہ سے تھیں جسیے کھیت کھلیان، اڑوس پڑوس، ہوا پانی، اماں ابا، بھائی بہن، نشیڑی ماموں۔ آج دونوں چھوٹے بھائی اور ایک بہن آ کر اغل بغل کھڑے ہو گئے۔ شاید جھلنگے پلنگ پر پڑی چھ مہینے کی بہن نے بھی کروٹ بدلی اور کالا دھاگہ بندھی سوکھی ٹانگ سے ہوا میں لات چلائی۔ اماں کہتی تھی کالا دھاگہ باندھنے سے نظر نہیں لگتی۔ اس سوکھی کالی، زور سے رونے کی بھی طاقت نہ رکھنے والی بچی کو کس کی نظر لگنے والی تھی؟ 

ویسے وہ دونوں جو اس کے ساتھ لمبے لمبے ڈگ بھرتے چل رہے تھے اسے بہت اچھے لگ رہے تھے۔ ان کے پاس سے خوشبو بھی آرہی تھی۔ ایسی خوشبو مولسری کے درخت کے نیچے آیا کرتی تھی یا جب کچے احاطے میں لگی رات کی رانی مہکتی یا ہار سنگھارنے ہنس ہنس کے پھول جھاڑے ہوتے۔ انسانوں کے پاس سے ایسی خوشبوئیں کہاں آتی تھیں۔ کیا ان خوشبو دار لوگوں کے گھر رات کی رانی مہکتی ہو گی؟ کیا وہاں مولسری کا درخت ہو گا؟ کیا ہار سنگھار وہاں بھی ہنس ہنس کر اپنے ننھے ننھے ستاروں جیسے سفید پھول جھاڑتا ہو گا جن کی نازک ڈنڈیاں بطخ کی چونچ جیسے گہرے نارنجی رنگ کی ہوتی ہیں کیا 

وہاں بھی تالاب ہوگا اور اس کے کنارے وہ گندے بدہیئت سو رہوں گے جن کی وجہ سے ابا کے اپنے بچوں کو غصے میں سور کا بچہ کہنے پر اسے بے حد غصہ آتا۔ (گالیاں دیتے ابا اسے بہت برے لگا کرتے تھے لیکن ابھی خاموش، کنارے کھڑے ابا پر اسے بڑا ترس آیا) یہ چشم زدن میں زندگیاں یوں کیسے بدل جایا کرتی ہیں (ایسا سوچنے کے لئے اس کے پاس الفاظ نہیں تھے لیکن سوچ تو الفاظ کی پابند نہیں ہوتی ورنہ گونگے بہرے کبھی کچھ نہ سوچ پاتے) اس نے جاتے جاتے پلٹ کر ایک نظر اپنی محبوب بکری پر ڈالی جو کھونٹے سے بند ھی بیٹھی مزے سے جگالی کر رہی تھی۔ دونوں بچے پاس ہی پھدک رہے تھے اور بکری کے دودھ سے بھرے تھن زمین پر لوٹ رہے تھے۔ اس کا جی چاہا ایک بار پاس جا کر اس کے گلے میں بانہیں ڈال کر اسے الوداع کہہ کر آئے۔ 
بس چلی تو سارا کچھ پیچھے چھوٹنے لگا۔ تاڑی پی کر اماں کی اکلوتی چیز چاندی کی پائل، چرانے والے ماموں اور ہوا پی کر نشہ کرنے والے جھومتے تاڑ کے درخت، کھیت کھلیان، تالاب، ڈھٹائی سے راستے میں کھڑی گائیں، امرتی ساؤ کی دوکان پر جلتی ڈھبری اور بلاوجہ بھونکتے کتے، اور جب ٹرین چلی تو جو پیچھے چھوٹ رہا تھا اس کے چھوٹنے کی رفتار اور تیز ہو گئی۔ ہاں چاند اس کے ساتھ ساتھ چل رہا تھا اور وہ ستارہ بھی جو اس کے گھر کے ٹھکو اوپر سے جھانکا کرتا تھا۔ کیا یہ اس کے ساتھ ساتھ پٹنہ شہر تک جائیں گے؟ ان لوگوں کے گھر سے بھی دکھائی دیں گے؟ 

اماں نے کہا تھا ان لوگوں کو بھیا، بھابھی کہنا۔ انہوں نے اسے کھانا کھلایا پھر اس کا بستر بچھا دیا۔ ٹرین الگ جھولا جھلا رہی تھی۔ پہلے اسے لگ رہا تھا آج کی رات بہت بھاری ہے لیکن ایسی نیند آئی کہ صبح جھنجھوڑ کر جگایا گیا۔ 

اسٹیشن، گھر، گرد و پیش دیکھ کر اس کی آنکھیں پھٹی کی پھٹی رہ گئیں۔ تلاؤ کی مچھی کو کسی نے اچھال کر گنگا میں ڈال دیا تھا۔ 

گھر میں ایک بڑی شفیق بزرگ عورت تھیں۔ جنہیں لوگ اماں کہتے تھے۔ یہ دونوں تھے جو اسے لائے تھے۔ اماں کے بیٹا، بہو، دو چھوٹے لڑکے تھے۔ ایک پانچ برس کا اور دوسرا کوئی ڈھائی تین سال کا۔ بچے ایسے خوبصورت، صحتمند اور خوش و خرم لیکن اس کے ذخیرۂ الفاظ میں صحتمند اور خوش و خرم جیسے الفاظ تھے ہی نہیں۔ 

سب لوگ روز نہا دھو کر کپڑے بدلا کرتے تھے۔ اتنے کپڑے؟ اسے بھی تو ایک ساتھ دو جوڑے دیے گئے اور ایک جوڑ کپڑے بھابھی یہاں سے لے کر بھی گئی تھیں جو اسے پہنا کر لائی تھیں۔ اس کا کثیف، پرانا جوڑا وہیں چھوڑ دیا گیا تھا۔ نئے چپل، بالوں کے لئے ربن۔ اسے ایک چھوٹا بکس دیا گیا۔ اس میں سارا سامان تھا۔ یہ ہمارا ہے؟ وہ ہکلائی تھی۔ بہت دیر لگا کر اسے یقین ہوا کہ یہ چیزیں اسی کی ہیں۔ 

سب اس کے ساتھ اچھا برتاؤ کر رہے تھے۔ بس موٹی ملازمہ جو صبح شام آ کر جھاڑو بہارو کرتی اور کھانا پکاتی، کچھ ٹیڑھی سی رہا کرتی تھی۔ پہلے دن بھی اس نے کہا تھا، ’’اے چھوکری، خالی بیل جیسی آنکھوں سے تاکے ہے کہ کچھ کام دھام بھی جانے ہے۔‘‘ اس پر ان بزرگ خاتون نے تنبیہ کی تھی۔ 

’’سیکھ لے گی سیکھ لے گی۔ اور کام ہے بھی کیا۔ دونوں بچوں کو ہی تو سنبھالنا ہے۔‘‘ 

کئی دن گزر جانے کے بعد بھی وہ اس سارے کار خانے کو پھٹی پھٹی آنکھوں سے یوں دیکھتی رہتی تھی جیسے ان میں سارے جہاں کی حیرت سمٹ آئی ہو۔ ایک دن وہاں ان بچوں کے ماموں آئے۔ ان کو بھی وہ دیر تک گھورتی رہی۔ 

ماموں کہیں ایسے بھی ہوتے ہیں عمدہ پینٹ شرٹ میں ملبوس، ہنس مکھ، بچوں کے لئے بہت سے چاکلیٹ لانے والے ماموں کیا اپنی بہن کا زیور چرائیں گے؟ 

’’ارے یہ کہاں سے مل گئی۔‘‘ انہوں نے بزرگ خاتون سے کہا۔ انہیں وہ اماں کہہ رہے تھے۔ 

’’کشن گنج والی غریب رشتہ داروں کی لڑکی ہے۔ ان کے یہاں ضرورت نہیں تھی۔ یہاں رکھوا دیا۔‘‘ 

’’ارے تو ایک ہمیں بھی دلوا دیں۔‘‘ 

’’لو بھلا۔ بازار میں بک رہی ہیں کیا۔‘‘ 
’’اس کی کوئی بہن نہیں ہے؟‘‘ 

’’ہے تو لیکن ماں باپ اب دیں گے نہیں۔ لڑکی کو باہر بھیجنا بڑے دل گردے کا کام ہے۔ کشن گنج والی پر انہیں پورا بھروسہ تھا اس لئے بھیج دیا۔‘‘ 

’’اماں، آپ ہمارا خیال نہیں کر رہیں۔‘‘ 

’’میاں پہلے اپنا خیال۔ اس عمر میں دو بچے تنہا ہم پال رہے تھے۔ دلہن بیگم دن بھر نوکری پہ۔ اپنے بچوں کو پال پوس کے بڑا کر دیا تھا۔ اب بڑھاپا خراب۔‘‘ 

’’ارے تم اپنی بہن کو بلا سکتی ہو؟‘‘ انہوں نے براہ راست اس سے سوال کیا۔ 

وہ تکتی رہی۔ 

’’ایسے ہی تاکے ہے ٹکر ٹکر۔ کوئی کام تھوڑی کرے ہے۔ خالی کھائے کو آئی ہے۔ کھا ہے ڈبرا بھر کے۔‘‘ موٹی بوا مو نہ ہی مونہہ میں بڑبڑائیں۔ 

’’بوا ایسے مت کہئے۔‘‘ وہ جو اماں کہلاتی تھیں ان کے کان بڑے تیز تھے۔ ’’بچوں کو یہی دیکھے گی ابھی تو ہم اسے کام سکھا رہے ہیں۔ رہا کھانا تو ابھی بھوکی ہے جب نیت سیر ہو جائے گی تو ہم لوگوں جیسی ہو جائے گی۔‘‘ اس کی تربیت شروع ہو چکی تھی۔ 

بڑا بچہ اسکول جاتا تھا۔ (وہ خود کبھی اسکول نہیں گئی تھی۔ اس کے بعد جو بھائی تھا وہ کبھی مسجد میں مولوی صاحب کے مدرسے جا نکلتا تھا۔ یہاں پانچ برس کا بچہ اسکول جاتا ہے وہ بھی روزانہ بلاناغہ۔۔۔) یا مظہر العجائب! (مگر اسے یا مظہرالعجائب کہنا نہیں آتا تھا۔) اس کو اسکول کے لئے تیار کرنا، بیگ میں ٹفن کا ڈبہ اور پانی کی بوتل ڈالنا، جوتے پالش کرنا اور اس کے جانے کے بعد چھوٹے کا خیال رکھنا اس کے ابتدائی سبق تھے۔ چھوٹے کو بوتل میں دودھ بھر کر دینا تھا جو وہ دن میں تین چار مرتبہ پیتا تھا۔جتنی مرتبہ وہ بوتل میں دودھ ڈالتی اتنی مرتبہ صابن سے ہاتھ دھونے پڑتے۔ گھر پر تو وہ اپلے پاتھ کر بھی صابن سے ہاتھ نہیں دھوتی تھی۔ 

ان بچوں کے پاس ایک بڑی ٹوکری بھر کر کھلونے تھے۔ ان کے باوجود ہفتے میں ایک آدھ نیا کھلونا آہی جاتا۔ کبھی ماں باپ میں سے کوئی لے آتا، کبھی وہ ساتھ گھومنے نکلتے تو بچے خود فرمائش کر کے لے لیتے۔ وہ زیادہ تر گاڑیاں لے کر آتے۔ کار، ٹرک، بس، پولس کا بائیک، پھر بندوقیں، ریوالور، ان کی نقلی گولیاں، پٹری پر گول گول گھومتی ٹرین، بال گیندیں لڑکے تھے نا اس لئے ان کے کھلونوں میں کوئی گڑیا نہیں تھی۔ ایک بار اس نے میلے میں پلاسٹک کی ایک گڑیا خریدنے کی ضد کی تھی۔ ابا نے اسے بھدی سی مٹی کی گڑیا لے دی۔ پلاسٹک کی گڑیا بہت مہنگی تھی۔ مٹی کی گڑیا سے کھیلنے میں اتنا مزہ نہیں آیا اور بھیا سے لڑائی ہوئی تو تیسرے دن اس نے گڑیا توڑ بھی دی۔ 

لیکن ایک دن لڑکوں کے اس گھر میں بھی اس کی حیران آنکھوں نے گڑیا ڈھونڈ نکالی۔ بہت بڑی تقریباً نوزائیدہ انسانی بچے کے سائز کی، موٹی، گدبدی، نیلی آنکھوں اور سنہرے بالوں والی اس نے سچ مچ کی فراک پہن رکھی تھی اور اس کے جوتے بھی بالکل اصلی تھے، بالوں میں سرخ رنگ کار بن بندھا ہوا تھا۔ ابھی اس گھر میں اور کیا کیا دیکھنا باقی ہے۔ ایسی بھی گڑیاں ہوتی ہیں؟ اتنی حسین، ایسی کہ معلوم ہو زندہ ہیں، بس ابھی بول اٹھیں گی۔ اس کا دل اسے گود میں اٹھانے کو مچل گیا۔ 

اب اسے بھابھی نے اپنے کمرے میں جھاڑ پونچھ کا کام بھی سونپ دیا تھا۔ کچھ دن سے موٹی ملازمہ کام بڑھ جانے کی شکایت کر رہی تھی۔ وہ پہلے دن کمرے میں داخل ہوئی تو سب سے پہلے نظر گڑیا پر ہی، پڑی شیشے کی الماری میں رکھی ہوئی تھی۔ وہ دیر تک اسے تکتی رہی تو بھابھی نے بتایا کہ یہ ان کی گڑیا تھی۔ شادی کے کچھ دن بعد وہ اسے اپنے گھر سے لے آئی تھیں۔ حیرت سے عموماً اس کی زبان گنگ رہتی تھی اور ویسے بھی وہ ایک خاموش طبیعت لڑکی تھی۔ حالانکہ بھابھی ابھی نوجوان تھیں۔ بالکل لڑکی جیسی لگتی تھیں لیکن شادی شدہ تھیں۔ ان کے دو بچے تھے۔ کیا ان کی عمر کی عورتیں گڑیا کھیلتی ہیں جو وہ اپنی گڑیا اٹھا لائی تھیں؟ ایسی گڑیا ملتی کہاں ہے اور کتنے پیسوں میں ملتی ہے؟ یہ سارے سوال اس کے ذہن کی تہوں سے اٹھ اٹھ کر واپس انہیں میں دفن ہوتے رہے۔ ہاں اس گڑیا کو چھونے، اس سے کھیلنے کی خواہش جنون کی حد تک سر پر سوار ہونے لگی۔ 

انہیں دنوں ایک دوپہر میں اماں حسب معمول اپنے کمرے میں لیٹنے جا چکی تھیں۔ بھیا بھابھی اپنے اپنے دفتر میں تھے اور وہ دونوں بچوں کو لے ان کے کمرے میں انہیں سلانے کی کوشش کر رہی تھی جبکہ دونوں میں سے کوئی سونے پر آمادہ نہیں تھا۔ 

’’اے، ہمارے ساتھ کھیلونا۔‘‘ 
’’بابو گڑیا کھیلیں گے؟‘‘ 

’’ہم لڑکی نہیں ہیں۔ گڑیا سے تو لڑکیاں کھیلتی ہیں۔ چور سپاہی کھیلتے ہیں۔‘‘ 

’’ہمارے ساتھ کھیلئے نا۔ ہم تو لڑکی ہیں۔ لائیں؟‘‘ اسے بھابھی کے کمرے میں داخلہ مل چکا تھا۔ 

اس نے ڈریسنگ ٹیبل کے سامنے رکھا ہوا اخروٹ کی لکڑی کا سبک اسٹول کھسکایا اور اس پر چڑھ کر گڑیا اتار لی۔ گود میں لیا تو محسوس ہوا جیسے جنم جنم کی پیاس مٹ گئی ہو۔ اس نے اس کے بالوں میں انگلیوں سے کنگھی کی۔ ربن کھول کر پھر سے باندھا، فراک دوبارہ پہنائی۔ لڑکے نے کبھی گڑیا نہیں کھیلی تھی لیکن ابھی اسے بھی بڑا مزہ آیا۔ چھوٹا لڑکا اپنے لکڑی کے گھوڑے پر بیٹھا جھول رہا تھا۔ بڑے نے گڑیا اسے دی۔ ’’لو اسے اپنے گھوڑے پر بیٹھا لو۔ سیر کرا کے لے آتے ہیں۔‘‘ 

تینوں کھلکھلا کر ہنسے۔ یہاں آنے کے بعد پہلی مرتبہ وہ اس طرح دل کی گہرائیوں سے کھلکھلا کر ہنسی تھی۔ ایسی ہنسی تو اس کے اپنے گھر میں بھی شاید ہی گونجتی ہو۔ 

’’اب رکھ دو۔ بڑے نے کہا۔ ممی دیکھیں گی تو ڈانٹیں گی۔‘‘ 

لیکن اس دن اس کی زندگی میں ایک نیا ورق کھلا تھا۔ گڑیا اکثر دو پہر میں خاموشی سے اتر کر نیچے آ جاتی اور تینوں مل کر گڑیا سے کھیلتے۔ اس نے اسے دونوں بچوں کی چھوٹی بہن بنا دیا تھا۔ چھوٹے کے نہ سہی لیکن بڑے بچے کے ذہن میں بہن کا تصور تھا۔ گڑیا موٹر میں سوار ہوتی۔ گھوڑے پر ساتھ بیٹھ کر گھومنے نکلتی۔ ایک دن اس کی فراک اور ربن دھو کر سکھائے گئے۔ ادھر لڑکی کو بچوں کے کپڑوں پر استری کرنا سکھایا گیا تھا۔ اس نے استری لگائی اور دونوں چیزیں پریس کیں۔ انہیں نئے سرے سے پہنایا گیا۔ ربن کو دوسرے انداز میں باندھا گیا اور پھر واپس رکھنے سے پہلے، پہلے جیسا کر دیا گیا۔ یہ گڑیا ہم اپنی بہن کو دکھاتے۔ وہ بھی اس سے کھیلتی۔ میری بیچاری ننھی بہن۔ آٹھ سال کی ہو گئی اسے کوئی گڑیا نہیں ملی۔ اسے دیکھے گی تو وہ کیسی خوش ہوگی، اس نے سوچا۔ اب اس کی آنکھوں کی حیرانی کم ہونے لگی تھی لیکن دل میں خواہشات کا طوفان اٹھنے لگا تھا۔ آج ان لوگوں نے اسکول اسکول کھیلا تھا۔ یہ آئیڈیا بڑے لڑکے کا تھا۔ وہ ٹیچر بنا۔ لڑکی اور گڑیا اسٹوڈنٹ۔ تھوڑی دیر کو چھوٹا لڑکا بھی اپنا ہیلی کاپٹر اڑانا بھول کر ’کلاس‘ میں آ بیٹھا تھا۔ ان لڑکوں کے پاس سچ مچ کا بورڈ تھا۔ کافی بڑا۔ لیکن وہ سیاہ نہیں بلکہ سفید رنگ کا تھا۔ اس پر لکھنے کا خاص قلم تھا جو خوب موٹے حروف لکھتا۔ جب چاہو صاف کر دو اور دوسرا کچھ کھ لو یا تصویر بنا لو۔ لڑکے کے پاس رنگین تصویروں والی بہت ہی خوبصورت کتابیں تھیں۔ اب تو ایک چمکیلی سی تصویروں والی کتاب چھوٹے بچے کے لئے بھی آ گئی تھی۔ وہ اب ساڑھے تین سال کا ہو رہا تھا۔ اور اسے اسکول میں ڈالنے کی بات ہو رہی تھی۔ وہ کتاب بڑی لبھاؤنی تھی۔ اس کا بھائی مدرسے میں جو کتاب پڑھتا تھا وہ تو شکل سے ہی ایسی لگتی تھی کہ پڑھنے سے انسان بھاگے۔ بس کالے کالے حروف، ملگجا کاغذ۔ ہاتھ لگاؤ تو پھٹے۔ بابو جس کتاب سے ٹیچر بن کر اے بی سی ڈی پڑھا رہے تھے وہ اگر بھیا کو ملتی تو پڑھنے سے نہ بھاگتا۔ 

یہاں اماں نے اس کے لئے یسرناالقرآن منگا دیا تھا۔ شام کو تھوڑی دیر بٹھا کر پڑھاتی تھیں۔ اس کا جی چاہتا ان تصویروں والی کتابوں سے بھی پڑھے اس لئے بابو نے جو اسکول والا کھیل شروع کیا تو اسے بہت ہی اچھا لگا۔ 

’’کہتے ہیں اچھا نوکر بھی قسمت سے ملتا ہے۔‘‘ ایک دن اماں کے پاس سے وہ پڑھ کر ہی تو وہ کسی سے کہہ رہی تھیں۔ شاید کوئی ملنے والی آ نکلی تھیں۔ ’’یہ لڑکی بس اللہ کی بھیجی آ گئی۔ دونوں بچوں کو سنبھال لیتی ہے۔ بڑا آرام ہو گیا ہے۔ اصل گھر میں سب سے بڑی تھی۔ کوئی نو، دس برس کی۔ اس کے بعد ان کی اماں کے چار چنے گی پوٹے۔ انہیں یہی سنبھالتی تھی۔ بس یہاں کے طور طریقے سیکھنے تھے۔ ہے ذ ہین۔ جلدی سیکھ لے۔‘‘ 

اب کیا نوکروں کو بھی نظر لگتی ہے۔ لے بھلا ہو۔ کل ہی تو اماں نے یہ بات کہی تھی یا شاید پرسوں اور آج صبح وہ گھر سے غائب پائی گئی۔ 

لوگ ایسے پریشان ہوئے کہ چہرے پر ہوائیاں اڑنے لگیں۔ پرائی لڑکی۔ اور آج کل جو حال ہے نہ پانچ برس کی محفوظ نہ پچاس کی۔ گھر میں ہڑکمپ مچ گیا۔ 

’’اجی، لڑکی سے پہلے سامان تو دیکھئے۔ ہم پہلے ہی نہ کہتے تھے۔ بیل جیسے دیدوں سے ہر چیز تاکے تھی۔ رات دلہن شادی سے آکر زیور اتار کر باہر ہی رکھن ہیں۔‘‘ موٹی ملازمہ نے کہا۔ کوئی لگا رہا ہو گا ساتھ۔۔۔ بھابھی نے جلدی سے سنگار میز کی دراز کھولی۔ وہ جب جھمکے اتار رہی تھیں تو وہ پاس کھڑی ٹکر ٹکر مونہہ دیکھ رہی تھی۔ 

جھمکے وہیں تھے۔ سونے کی چوڑیاں بھی۔ 

’’دلہن تم نے پرسوں بینک سے پیسہ نکالا تھا۔ لاپرواہ ہو۔ کہاں رکھا تھا؟‘‘ اماں بھی بول پڑیں۔ 
بھابھی نے جلدی سے بیگ ٹٹولا۔ پانچ پانچ سو کے نوٹوں کی گڈیاں۔ روپے گنے۔ پورے تھے۔ اسے کپڑے رکھنے کے لئے جو اٹیچی دی گئی تھی وہ وہیں تھی۔ اس میں کپڑے بھی تھے۔ تب؟ 

’’تب کون چیز؟ کسی کے ساتھ نکل گئی ہے۔‘‘ ملازمہ نے کہا۔ 

’’اے ہے بوا! خدا سے ڈرو۔ دس ایک سال کی بچی۔‘‘ اماں نے کہا۔ 

’’اجی آج کل ٹی وی دیکھ دیکھ کے دس برس میں پوری عورت ہو جاں ہیں‘‘، 

بوا نے جواب دیا۔ 

میاں بیوی دونوں نے چھٹی لی۔ پولیس میں رپورٹ کریں تو چائلڈ لیبر والے پکڑیں گے۔ خیر اس کی نوبت آئی تو کہہ دیا جائے گا کہ غریب رشتہ دار ہے۔ ماں باپ نے یہاں پڑھانے کے لئے بھیجا ہے۔ مصیبت کر دی لڑکی نے۔ اماں بہت لاڈ کرتی تھیں۔ سب سے زیادہ آرام انہیں کو تھا۔ ڈرتی تھیں اگر دل نہ لگا یا نا آسودہ رہی تو چل دے گی۔ اب بھگتیں بلکہ سب کو بھگتوائیں۔ گاڑی لے کر نکلے۔ کیا پتہ ٹرین یا بس سے کہیں نکل گئی وہ تو کیا حشر ہوگا۔ گھر پہنچ گئی تو خیر، نہ پہنچی تو اس کے ماں باپ کو کیا منہ دکھائیں گے۔ غریب بے چارے۔ بھروسے پر لڑکی سونپی تھی۔ چلتے وقت رخصت کرنے کو کھڑی ماں نے میلے کچیلے آنچل سے نہ جانے کن خاموش آنسوؤں کو پونچھا تھا۔ 

سارے دن کی تگ و دو کے بعد اسٹیشن پر بیٹھی ملی۔ پھٹی پھٹی حرھان آنکھوں کی حیرانی بکھیرتی، آتی جاتی گاڑیوں کو دیکھ کر یہ سمجھنے کی کوشش کر تی کہ کون سی گاڑی اس کے گاؤں جائے گی۔ ہونٹوں پر پڑآیاں بندھی ہوئی تھیں۔ گالوں پر آنسو خشک ہو چکے تھے۔ بغل میں گڑیا دبی ہوئی تھی اور اے بی سی ڈی والی پرائمری۔🔴🔴🔴

افسانہ 

           🟥          *گداہن*🟥

                           ذکیہ مشہدی 

مولوی صاحب نے اس کا نام زینب خاتون رکھاتھا ۔ کچھ دن تک دادا ، جنہوں نے اردو اسکول میں پرائمری تک کی تعلیم حاصل کی تھی اسے صحیح تلفظ اور پورے نام کے ساتھ زینب خاتون پکارتے رہے لیکن دادی نے کچھ عرصے تک اسے صرف ’بابوْ‘ کہنے کے بعدسے جنوا کہنا شروع کیا اوریہ عرف اس سے چپک گیا ۔ یہ زینب کے مقابلے میں آسان تھا اورپھراس میں دادی کی محبت کی مٹھاس بھی تھی ۔ نام کی یہ تاریخ اسے اس لئے معلوم تھی کہ لوگ اکثر یہ دوہراتے تھے کہ دادی نے اسے لاڈ میں کتنا بگاڑرکھاتھا ۔ بس ایک بارہی مٹی کھانے پراسے ایک چپت لگایاتھا ’’ کارے جنواپھرمٹی کھاکے آئی ہے ‘‘ لیکن بجائے ڈرنے یا شرمندہ ہونے کے وہ ٹھیک دادی کے انداز میں دونوں ہاتھ کمر پررکھ کے کھڑی ہوگئی اور آنکھوں میں آنکھیں ڈال کے بولی ’’ہاں کائی ‘‘ اورلوگ ہنس ہنس کے دوہرے ہوگئے ۔

پھر اس کا پورا اورصحیح نام نکاح کے وقت ان مولوی صاحب نے ہی لیا جواب بوڑھے ہوچلے تھےٹ’’ زینب خاتون ولد محمداسمعیل مرحوم تمہارا نکاح محمد امام الدین ولد محمدسراج الدین مرحوم بعوض دوہزار ایکسواکیاون روپیہ سکہ راعج الوقت ٹتوقف کرنے پرسرخ آنچل سے ڈھکا اس کا سردادی نے زور سے نیچے کیاتھا جیسے پھرمٹی کھاکے آنے پرچپت لگا رہی ہوں ۔

’’مہر بہت بندھا دیا اماں ۔ ‘‘ امام دین نے ماں سے کہا

’’چپ ۔ مہر کون دیتاپھرتاہے ۔ تیرے ابا نے دیاتھا ;; ہمارے وقت میں پان سوبھی ایسا ہی لگاتھا ۔ مرتے مرگئے کبھی اکٹھے پان سوگھر کے خرچ کے لئے بھی ہاتھ پہ نا رکھے ۔ سو،پچاس کرکے ہی دیتے رہے ۔ ‘‘

اماں کی یہی عادت ہی تھی ۔ ایک بات کہو تودس سن لو ۔

’’اچھاٹھیک ہے ٹھیک ہے ۔ ‘‘ اس نے ہتھیار ڈال دیے ۔

’’جا‘ اب بہو کے کمرے میں جا، مگرجورو کاغلام مت بن جائے گا ۔ تیرے ابا تو مرتے مرگئے کبھی ہماری بات مان کے نہ دی ۔ پرتے آج کل کا لڑکا ٹھہرا ۔ ‘‘

امام دین سٹک کراس کوٹھری میں جاچکا تھاجہاں سیلن ،حبس اور مہندی وچمیلی کے تیل کی خوشبو کے ساتھ چوہوں کے پیشاب کی بو نے مل کر عجیب سماں باندھ رکھاتھا ۔ وہ عجیب وغریب مہک جوبری بھی لگ رہی تھی اور اچھی بھی کہ سہاگ رات سے وابستہ تھی ، زینب کوہمیشہ یاد رہ گئی ۔

دوسرے دن محلے پڑوس کی خواتین بہو کودیکھنے آئیں ۔ اس کا قد،کاٹھی گفتگو کا موضوع رہے ۔ ’’ یہ میاں امام دین تواس کے سامنے چھوٹے لگ رہے ہیں ۔ ‘‘ کسی نے تبصرہ کیا ۔

’’اجی کیاچھوٹے، مرد تومرد ہے ۔ ‘‘

’’رنگ صاف ہے لڑکی کا ۔ ‘‘

’’یہی دیکھ کے تولائے ۔ ‘‘امام دین کی والدہ نے کہا ۔ ہماری جٹھانی جہیز پہ گئیں ۔ کالی لڑکی لے ;ئیں اب گھر میں کالے تل کے لڈو جیسے بچوں کی لین لگی ہے ۔ ‘‘

’’اما م دین تو کالا ہے ۔ ‘‘

’’ ارے مرد کا کیا ۔ گھی کالڈو ۔ نسل تو عورت سے کھنچتی ہے ۔ ‘‘

کچھ عورتیں ٹھی ٹھی ٹھی ٹھی کرکے ہنسنے لگیں ۔

آلوگوشت ، بگھارے چاول اورزردہ کھاکے لوگ وداع ہوئے ۔

امام دین کی ماں نے سلامی گنی ۔ آٹھ سوسے کچھ ہی اوپر ۔ اس سے زیادہ کھانے میں خرچ ہواتھا ۔ اوپر سے بہو کوچاند ی کی پازیب اورتارترنگی سہی، سونے کی انگوٹھی بھی چڑھائی تھی ۔ گھر سے بہو چاندی کی بھاری ہنسلی ،پازیبیں اور سونے کے بندے لائی تھی ۔ امام دین کوپانچ ہزار نقد ،دوجوڑکپڑے، سائیکل ،گھڑی،سونے کی انگوٹھی اورسال بھر کے اندر موٹر سائیکل کاوعدہ ملے تھے ۔ بہو کے گھر آم کے پھلدار پیڑتھے ۔ فصل پر داماد کے لئے آئیں گے ہی ۔ دراصل امام دین ریلوے میں گیٹ کیپر تھا ۔ سرکاری نوکری تھی جس کا اس کی ماں کوبڑا زعم تھا ۔ اکثرکہتی تھی اگرتاڑی کی لت نہ ہوتی تو بھاری جہیزوالی لڑکی ملتی ۔ بات کھل گئی تھی ۔ جولوگ زیادہ دے سکتے تھے اور موٹر سائیکل کا وعدہ نہیں بلکہ فوری طورپر موٹرسائیکل دروازے پرکھڑی کرجاتے وہ پینے کی بات سن کر کتراتے تھے ۔ امام دین کی اماں کاخیال تھا کہ شادی میں دیر کی تونشے کی لت بڑھ جائے گی ۔ اب مہرارو آکے چھڑائے گی ۔ کچیّ لت میں چھڑالینا آسان ہوتاہے ۔ لڑکی کاباپ نہیں تھا ورنہ توشاید یہ لوگ بھی ہاتھ نہ آتے ۔ امام دین کوبہو پسند نہیں آئی ۔

’’کیا دیکھ کے لائیں اماں ;;ایسا چوڑا سامونہہ ہے ، طباق جیسا ۔ ‘‘ کوئی تیسرے چوتھے دن اس نے ماں سے کہا ۔ ’’گھورتی ہے تو لگتاہے کھاجائے گی ۔ ‘‘

’’واہ بیٹا واہ، گوری صورت ، بڑی بڑی آنکھیں ۔ کیاوہ چاہئے ، وہی ناچنے والی ، کیانام ہے کہ ملکہ شیرانی،

’’اماں اس کانام یوں بگاڑاتوتمہارے اوپر مقدمہ ٹھوک دے گی وہ ناچنے والی ۔ ‘‘

’’نہیں جی‘ سنیما دیکھ دیکھ کے سب کا دماغ خراب ہوگیاہے ۔ وکیل صاحب کی بی بی بھی کہہ رہی تھیں کہ ان کے لڑکے کو خوبصورت لڑکی چاہئے بھلے ہی جہیز نہ لائے ۔ اب کوئی ناک میں نہ سمارہی ۔ دوڑتی پھررہی ہیں ۔ ‘‘

زینب کا استخوانی ڈھانچہ ذرا چوڑاتھا ۔ چہرہ اورپیشانی بھی چوڑے تھے لیکن وہ صاف رنگت ، ستھرے نقوش اورلانبے قدکی گدبدی سی لڑکی تھی ۔ سولہواں سال بس ابھی گیا ہی تھا ۔ الہڑپن چہرے پرلہریں لے رہاتھا اس کے قد، کاٹھی نے پہلے ہی دن امام دین میں ایک احساس کمتر ی جگایا ۔ اس نے دوستوں کی محفل میں سناتھا کہ اس طرح کے جسم والی لڑکیوں کومطمئن کرنا ہرمرد کے بس کی بات نہیں ہوتی اورامام دین تو تھاہی منحنی سا ۔ لمبوترا ، چھوارے جیسا مونہہ ۔ اسے دیکھ کر زینب کوان نیولوں کی یادآئی جو اس کے گھر کے حاطے میں کھڑے آم کے درختوں کی جڑ میں بل بناتے رہتے تھے ۔ وہ اسے دیکھتی توبے اختیار ہنسی آتی ۔ ہنسی نہ روک پاتی تو مونہہ پھیرلیتی اور امام دین جل بھن کے خاک ہوجاتا ۔

امام دین نے ڈنڈپیلنے شروع کئے اور زینب کوحکم دیاکہ روز رات کو چارپانچ چھوارے ایک پیالہ دودھ میں بھگوکر رکھاکرے ۔ صبح وہ نہارمونہہ چھوارے کھاکے دودھ پیاکرے گا ۔ تاڑی کی دوکان پہ کسی نے بتایاتھا کہ اس نسخے سے جسم پرگوشت چڑھتاہے اور مراد نگی بھی بڑھتی ہے ۔

مرادنگی بڑھتی یانہیں لیکن شادی کے بعدسے امام دین پینے زیادہ لگا اور اب صرف تاڑی ہی نہیں بلکہ دیسی شراب بھی مونہہ کولگ گئی ۔ خاص طورسے زینب کے پاس آتا توضرور چڑھاکے آتا ۔ وہ اتنا ہی بدکتی ، اس کے گھر یہ لت کسی کونہیں تھی اس لئے بہت گھبرابھی جاتی تھی ۔

امام دین کو ایک دن نوکری سے ہاتھ دھونے پڑے ۔ وہ پہلے معطل ہواپھربرطرف ۔ ٹرین کا حادثہ ہوتے ہوتے بچاتھا اس لئے جرم سنگین تھا ۔ جتنے دن معطل رہا، گھر کا خرچ کچھ بچائے گئے پیسوں سے چلا، کچھ زینب کے بھائی نے مددکی ۔ ماں نے اپنی چڑھائی ہوئی پازیب اور انگوٹھی نکال دی ۔

برطرف ہوا تو ماں نے پچھاڑیں کھائیں اور جنوا کوسبز قدم قرار دیا ۔

زینب گھر گئی تو بھائی اورماں سے شکایت کی ۔ آپ لوگوں کومعلوم نہیں تھا وہ پیتا ہے ;

بھائی توصاف مکرگیا ۔ ماں نے کہا،بہت سے مردوں کولت ہوتی ہے ۔ گاءوں میں تو بہت لوگ تاڑی پیتے ہیں ۔ لیکن توکیاکررہی تھی ۔ بجائے تاڑی چھوڑنے کے وہ دیسی بھی پینے لگا ۔ عورت کایہی کام ہے کہ بری عادت بڑھائے;

’’ارے ہم نے کیاکیا;;‘‘وہ کمرپہ دونوں ہاتھ رکھ کے کھڑی ہوگئی ۔ اس کی آنکھوں میں آگ تھی ۔

’’یہ اس کی دادی سکھاکے گئی ہے ۔ لڑاکن کہیں کی ۔ مرد سے بھی مونہہ زوری کرتی ہوگی ۔ تبھی گھرسے بھاگا پھرتاہے ۔ ارے اب توسنبھال جاکے ۔ ‘‘

دھکڑپکڑ کے زینب کوسسرال چھوڑکے آیا گیا گرچہ لوگ بہت مایوس تھے ۔ سرکاری نوکری پر شادی کی تھی ۔ لیکن اب کیا ۔ مرویابھرو ۔

زینب نے بیٹری بنانے کاکام شروع کیا ۔ امام دین کواس کے بچپن میں ایک دورکارشتہ دار ساتھ رکھا کرتاتھا ۔ وہ پینٹنگ کاکام کرتاتھا ۔ شایدامام دین اسی میں لگا ہوتا لیکن ایک ریلوے افسر کے یہاں کام کیاتھا انہوں نے اسے گیٹ کیپر کی نوکری دالوادی ۔ اس وقت وہ دبلا پتلامنحنی سالڑکا بڑا محنتی تھا اوراس کے ہاتھ میں بڑی صفائی تھا ۔ آج یہ صفائی اوروہ ہنر اس کے کام آیا ۔

جلد ہی امام دین کومعلوم ہواکہ اس دوران اسے اس دھول سے الرجی ہوگئی تھی جوپینٹنگ سے پہلے دیواروں کورگڑ نے سے اڑاکرتی تھی ۔ اس کے علاوہ پینٹ کی مہک سے بھی اس کا سرچکراتا، جی متلانے لگتا اورسینے میں سانس گھٹتی سی محسوس ہوئی ۔

’’اسے ساتھ لے جایاکر ۔ ایک دن ماں نے حکم صادر کیا ۔ دیواروں پرسریس پتہ یہی رگڑے گی اور دھول بہارنے کاکام کرے گی ۔ ساتھ میں جو لڑکا رکھاہے اس کا پیسہ بھی یہی کمائے گی ۔ ‘‘

آئیڈیا برا نہیں تھا ۔ زینب عرف جنوا بیٹری بنانے کاکام چھوڑ کے شوہر کے ساتھ جانے لگی ۔ سرپر دوپٹہ کس کے باندھتی اور سرجھکاکے بیل کی طرح کام میں لگ جاتی ۔ سننے میں آنے لگا کہ امام دین سے زیادہ تواس کی کم عمر جورو محنتی ہے ۔ اب تووہ پینٹ بھی کرلیتی ہے ۔ امام دین کئی کئی دن کام سے غیرحاضر رہنے لگا ۔ ملتاہوا کام چھوڑ دیتا یا اکیلے ہی بیوی کوبھیج دیتا ۔ کتنی بھی محنتی ہولیکن اکیلے کام اس کے بس کانہیں تھا ۔ نہ ہی کوئی عورت سے گھر میں پینٹنگ کراتا ۔ اسسٹنٹ کے طورپر ٹھیک تھی ۔ آمدنی بڑھتے بڑھتے پھرکم ہونے لگی ۔

کئی لوگوں کی شرکت میں ایک بار امام دین کوہوٹل میں کام ملا،جس کا ایک حصہ ابھی زیرتعمیر تھا ۔ لوگوں سے معلوم ہوا کہ اگر وہ گنگاسے بالو ڈھونے لگے تواسے پینٹنگ کے تکلیف دہ کام اور تنفس کی شکایت سے چھٹکارا مل جائے گا ۔ ہاں بالوڈھونے کے لئے دوورنہ ایک گدھا توچاہئے ہی ۔

پیسے نکال ۔ اس نے بیوی سے کہا ۔ لہجہ اس کے تن وتوش کاٹھیک الٹا تھا ۔ نہایت تحکمانہ ۔ دبنگ ۔ تین چاردن کے لڑائی جھگڑے کے بعدہی زینت نے گولک توڑی ۔ دراصل ماں بیٹادونوں متحدہوجاتے تھے ۔ اکیلے توشاید امام دین سے نپٹ بھی لیتی لیکن ہٹی کٹیّ تندخوماں سے نپٹنابہت مشکل تھا ۔

اس نے گولک توڑا ۔ سارے پیسے مونہہ پرمارے ۔ اور دونوں بازو کمر پررکھ کے کھڑی ہوگئی ۔

’’نامرد کہیں کا ۔ تھوہے ۔ ‘‘

’’حرامزادی ’ پورے چارہزار پہ چڑھی بیٹھی تھی ۔ پیسے گن کر امام دین نے بھی تھوکا ۔

زینب اکثر بھنبھناتی رہتی تھی ۔ ہمارے بڑوں نے یہ سوچ کرشادی کی تھی کہ لڑکا سرکاری نوکر ہے ۔ شان سے شیخی ہانکتے پھرتے تھے ۔ پختہ نوکری ، پنشن ، ہرسال مہنگائی بھتہ ، کون جانتا تھا ایسے لچھن ہوں گے کہ نکالا جائے گا ۔ چلوخیر پچاڑا کرنے لگا ۔ اب نوبت یہ آئی کہ گدھے ہنکاتاہے ۔ ہ میں اپنے گھر جاتے شرم آتی ہے ۔ کیامونہہ لے کر جائیں گے گدھے والے کی بی بی بن کے ۔

ساس کواس کے ان اعتراضات پرشدید اعتراض تھا ۔ دوجون کی روٹی دے رہاہے ۔ جب تب مرغا مچھلی بھی لے ہی آتاہے ۔ لُول لنگڑہے کیا ۔ اور ہ میں بدلے میں کیامل رہاہے ;لگتاہے پوتے کامونہہ دیکھے بغیر مرجائیں گے ۔ ایک آدھ برس اور ایسے ہی گذرگیا تو امام دین کا دوسرابیاہ کرنے کا سوچنا ہوگا ۔

دوسرے بیاہ کی دھمکی سے زینب خوف زدہ ہونے کی بجائے آنچل میں مونہہ چھپا کرٹھی ٹھی کرکے ہنسی ۔ تمہارامریل، چمرخ بیٹا ایک توسنبھال لے ۔ یہ تو ہ میں لگتاہے کہ ایک آدھ سال اوربیت جائے اور بچہ نہ ہو تو ہم دوسرابیاہ کریں ۔ ‘‘

عورت ذات اور ایسی بے حیائی ۔ پہلے تواس کا مونہہ کھلے کا کھلارہ گیا پھر امام دین کی ماں نے سرپیٹ لیا ۔

شادی کے پانچویں برس ، اکیس سال کی عمر میں زینب عرف جنوا نے دوجڑواں لڑکیوں کوجنم دیا اور اس کے دوسرے ہی برس ایک بیٹے کو ۔ بیٹیاں وہ بھی دو ۔ دو پیدا کرنے کا داغ جلد ہی دھل گیا ۔

امام دین کی شراب نوشی بڑھ گئی تھی ۔ زینب تینوں بچوں کو لیٹاکر سوتی اور اسے پاس نہ بھٹکنے دیتی ۔ یہ جوشروعات ہوئی تھی یہ یونہی چلتی رہی توآتے رہنے والے بچوں کووہ کیاکھلا کرپالے گی ۔ اسے یہ بھی خوف تھا کہ کہیں پھرجڑواں نہ پیدا ہوجائیں ۔ اس کی شکل دیکھ کے امام دین کوپتنگے لگتے یہ عورت اپنے بچوں کے ساتھ ایک مکمل اکائی ہے جس کے اندر اس کاگزرنہیں ۔ زینب کے لئے وہ ایک بد روح میں بدلتا جارہاتھا جو نہ ہوکر بھی ہویا ہوکر نہ ہو ۔

امام دین نے کام بہت کم کردیا اور زینب پرزورڈالنے لگا کہ وہ ہاتھ بٹائے ۔ ‘’’رے جنوا ، تے بھی چل گدھالے کے ۔ اماں ہے نا، لڑکن کوسنبھال لے گی ۔ ‘‘ ماں سے کہتا ’’ اماں تے اسے اسی لئے بیاہ کے لائی تھی ناکہ مضبوط ہاتھ پاءوں والی ہے ، کام سنبھالے گی ۔ ‘‘

شروع میں زینب کاجی چاہا کہ وہ گنگا میں میں کود جائے جواس دانتا کل کل سے چھٹی ملے ۔ اب یہ گدھوں پہ بالو لاد کے تعمیرات تک پہونچانا ۔ لیکن پھر اسے محسوس ہوا کہ گھر پہ تین بچے، لڑاکا ساس اور کام چور، نشہ خور اما م دین ۔ بالو لادنے کوگدھے لے کر نکل جانے میں بڑی عافیت ہے ۔ اتنی دیروہ سکون سے رہتی ہے ۔ امام دین کی ماں بچوں سے بڑی محبت کرتی ہے ۔ بیٹا ہوجانے کے بعدبیٹیوں سے اس کی غیرارادی چڑبھی ختم ہوگئی تھی ۔ کنسٹرکشن ساءٹ پر ایک مرتبہ جوان مزدور نے اس کے ساتھ دست درازی کی تواس نے ایک زناٹے کا تھپڑ رسید کیا اور کمر پہ ہاتھ رکھ کے ، تن کر کھڑی ہوکر ایسی مردانہ گالیاں بکیں کہ اس کی کیا ، دوسروں کی بھی سٹی پٹی گم ہوگئی ۔ جوان عورت اچھا قد ، کاٹھی ،صاف رنگت لیکن کوئی اب چھیڑنے کی ہمت نہ کرتا ۔ اس کی دبنگ شخصیت نے اس کے خلاف جوایک غیر شعوری گھبراہٹ گھلی نفرت پیدا کی تھی اس میں ایک چمچ حسد بھی شامل تھا اس کے تحت اسے ایک تحقیرآمیزلقب سے یاد کیاجانے لگا ’گداہن‘ ۔ پیٹھ پیچھے اس کی اناٹومی پر گفتگو ہوتی اورلوگ ٹھی ٹھی ٹھی ٹھی کرتے ۔ جب بھی امام دین آتالوگ آنکھوں آنکھوں میں اشارے کرتے اور دبے دبے مسکراتے ۔ ایک دن ایک گارا بنانے والے مستری نے کہا ۔ کیوں بے ، بچے تیرے ہی ہیں نا; یہ عربی گھوڑی کہاں سے لے آیاتھا ;; اس دن امام دین نے زیادہ تاڑی پی اور زینب کو اس کی ساری مضبوطی سمیت دھنک کررکھ دیا ۔

مخصوص علاقوں کے مخصوص ذراءع ابلاغ ہوتے ہیں ۔ ’ گداہن‘گھومتا پھرتا زینب کےمحلے تک پہونچ گیا اور اب محلے والے بھی اس کا ذکر گداہن کہہ کے کرتے ۔ کوئی جنوا کہتانہ امام دین کی بہو وہ اب صرف گداہن تھی ۔ پھر پیٹھ پیچھے کی قید نہ رہی ۔ پہلے کسی کے مونہہ سے غیر ارادی طور پر نکل گیاتھا ۔ اے گداہن، دوگدھے بالوپہونچادینا، دیوار پکی کرارہے ہیں ۔ ‘‘ لیکن کہنے والا ذرا شرمندہ ہوگیاتھا ۔ پھریہ شرمندگی مٹتی گئی ۔ اسے معلوم توبہت پہلے ہوگیاتھا ۔ پھر بھی مونہہ پر سننے سے بے حد غصہ آیا ۔ پھرغصہ جھینپ میں بدلا اورپھرایک ڈھیٹ بے نیازی میں ۔ ذہن کو چوٹ پہونچتی ہے تواس میں خراشیں آتی ہیں ، زخم بھی بنتے ہیں پھر ہوتے ہوتے گٹہ بن جاتاہے ، گٹّے میں اعصاب سوجاتے ہیں ، ان میں حس باقی نہیں رہتی ۔ زینب عرف جنوا نے جس طرح اپنی زندگی کو قبول کیاتھا زندگی میں پہلے امام دین اورپھرگدھوں کو قبول کیاتھا اسی طرح وہ اس لقب ’گداہن‘ کوقبول کرنے کی کوشش کرنے لگی ۔ لیکن رام سنیہی سے نہیں ۔



امام دین تین دن سے گھر نہیں آیاتھا ۔ اماں نے ہائے توبہ مچارکھی تھی ۔

جب پیسے ختم ہوجائیں گے تو آجائے گا اماں فکرکیوں کرتی ہو ۔ آج تک بیٹا سمجھ میں نہ ا;یا تمہاری ۔ زینب نے بیزاری سے کہا روٹیاں لپٹ کر چنگیر میں رکھیں اوراٹھ کھڑی ہوئی ۔ تین بچوں کے بعد بھی وہ ویسی ہی تھی جیسی بیاہ کے آئی تھی اس کا جیسا فگر پانے کے لئے فلم اسٹارزاور ماڈل لڑکیاں گھنٹو ں جم جاکر مشقت کیاکرتی ہیں ۔ پہلو ٹھی کی جڑواں لڑکیاں اب پانچ برس کی ہوچکی تھیں اور لڑکاچار کا ۔ تینوں کا نام اس نے حال میں مولوی صاحب کے مدرسے میں لکھوادیاتھا ۔ اس وقت بھر اس نے تینوں کوگدھوں پر سوارکیا اور انہیں مدرسے چھوڑتی ہوئی گدھے لیکر گنگا کی طرف بڑھ گئی ۔

رام سینہی بالوْ کھیتا ، چلا آرہاتھا ۔ ناءو اس نے کنارے لگائی ۔ بالو ڈھونے والی بڑی بڑی چپٹی سی ناویں دورسے ہی دکھائی دے جاتی تھیں اور رام سینہی کے توبازو اتنے لانبے اورمضبوط تھے اور قد کاٹھی اتنی بلندکہ اوربھی دورسے معلوم ہوجاتاتھا کہ ناءو رام سنیہی کی ہے ۔ گنگا اپنی پوری ہیبت ، پورے جاہ وجلال ، پورے حسن وشباب کے ساتھ رواں دواں تھی ۔ موسم موسم تورنگ بدلتی ہی تھی ، دن کے چاروں پہر بھی ایک جیسی شاذونادر دکھائی پڑتی ۔

زینب کووہ کبھی کبھی ایک دیوقامت روہومچھلی لگاکرتی تھی ۔ گہرے سرمئی رنگ کی ایک ایسی روہو جس کی ابتداہونہ انتہا ۔ کبھی وہ ندی ، بالکل نہ لگتی ۔ سیمنٹ کی سڑک جیسی نظر آنے لگتی ۔ ساکت ، پرسکون ، ایک ذراسی لہر کانام ونشان تک نہیں ۔ کبھی کسی حسین وجمیل دوشیزہ جیسے دکھائی دیتی شرمائی ، شرمائی ، اٹھکیلیاں کرتی ، پلٹ پلٹ کراپنے گھونگھروالے بالوں کی جھٹکتی ۔ اورکبھی ایسی غضبناک ، غیرمرئی قوت بن جاتی جو پانی کی صورت میں نمودار ہوکر انسانوں کودھمکارہی ہو کہ خبردار اپنی اوقات میں رہنا ورنہ دیکھنا ہم تمہاراکیا حشر کریں گے اس وقت اس کا حسین چہرہ خوفناک ہواٹھتا ۔ گرچہ یہ خوفناک صورت بھی ایک ایسے جمال کامظہر ہوتی تھی جس پر جلال غالب آگیاہو ۔ ایک مبہوت کن کیفیت کی حامل ۔ سرجھکادینے کو مجبور کرنے پرقادر ۔ اب سرچاہے سیدھے گنگا کے حضور جھکے یا اس قادر مطلق کے سامنے جس نے گنگا کویہ صورت یہ سطوت عطاکی ۔

ویسے زیادہ ترگنگا ایسی رہتی تھی جیسی ابھی تھی ۔ ایک خوش مزاج ، مہربان ماں جیسی ، پرسکون ، ترل رل گاتی ، گنگنا تی ۔ اس کی چھاتی پرتیتری جیسی ناویں چل رہی تھیں ۔ ان کے خوش رنگ پال پھولوں کی پنکھڑیوں جیسے نظرآرہے تھے ۔ ہاں رام سنیہی کی ناءو اس کی اپنی زندگی جیسی تھی ، بدرنگ اوربے ڈھب ۔ اوراس پرلداسامانٹ وہ تو اوربھی بے رنگ اورپھیکا ۔ کرکرا بالو ۔ نظرپڑتے ہی لگتا مونہہ میں آگیا ۔ خواہ مخواہ تھوکنے کوجی چاہے ۔

’’کیسی ہے ری جنوا ; ناءو کنارے لگاتے ہی رام سینہی نے بڑے سروکار کے ساتھ اس کی خیریت پوچھی ۔ امام دین ٹھیک تو ہے ;; کئی دن سے آیانہیں اور پھر تیرا مونہہ بھی زیادہ سوکھاہوادکھائی دے رہاہے ۔

’’ مونہہ کیاسوکھے گا ۔ ایساہئی ہے ۔ ‘‘

’’نہ رے تیرا مونہہ تو بڑا اچھاہے ۔ سلونا سندر، ہ میں ناک کا بڑا دھیان رہتاہے ۔ چپٹی ناک والی عورتیں ذرانہ بھاتیں ہ میں ۔ لیکن تیری ناک تو اتنی ستواں ہے کہ حد نہیں ۔ کھڑی ، چھوٹی سی ۔ تجھے ناک میں بیسرجتنی سوہتی ہے ہم نے کسی کو سوہتے نہ دیکھی ۔ ‘‘

زینب زورسے ہنس پڑی ۔ آج اسے کیا ہوگیاہے;; پھربولی’’ امام دین بڑا ہتھ چھٹ ہے ۔ آج کل نشہ زیادہ کرنے لگا ہے لیکن ہوش میں بھی تورہتا ہے ۔ گدھے لےکے آئے گا تواس کے سامنے ہماری تعریف کرنا ۔ ‘‘

’’روپ کوسراہنا پاپ ہے کیا;;‘‘ بالو لاد نے کے لئے گدھوں کوہشکاکر قریب لاتی زینب کو اس نے نظر بھر کر دیکھا ۔ ’’ سچ سچ بتاکیا ہوا ; تیرے اس ہتھ چھٹ مرد نے تیرے اوپر پھرہاتھ چھوڑا;;عورت کومارنے والے کو ہم نامرد سمجھتے ہیں ۔ جو مرد ہو وہ مردسے دو ۔ دوہاتھ کرے ۔ ‘‘

’’جوجی میں آتاہے سوچ لیتاہے اوربولناشروع کرتاہے ۔ آج اتنا کیوں بول رہاہے ;; تجھے کیاہواہے;

’’ ہ میں کچھ نہیں ہوا ۔ گدھے لادتے لادتے تیرا چوڑا بھرابھرا چہرہ کسی گدھے کی تھوتھن جیسا لمبا ہوتا جارہاہے ۔ ارے خوش خوش رہا کر گداہن ۔ ‘‘ اس نے ایسی خوشدلی سے کہا جس میں گہری یگانگت چھلک چھلک پڑرہی تھی ۔

زینب وہیں دھپ سے زمین پربیٹھ گئی اور رونا شروع کردیا ۔

’’اب تے بھی یہی کہے گا ۔ تے تواس پارسے آتا ہے ۔ تے کو اس پار کی خبر کہاں سے لگ گئی ۔ ‘‘

رام سینہی خاموشی سے بالو لادتارہا ۔ یہ اس پار اور اس پار اس کی سمجھ میں نہیں آیا ۔ عورت دکھی ہے دو ۔ دو بیٹیاں ہیں ۔ اپناگھر توہے لیکن آمدنی کم ۔ جوان جہان ہے لیکن مرد نے کچھ دن سے آنکھ اٹھا کر دیکھنا بھی بند کردیاہے ۔ بہت دن سے وہ امام دین کے گدھوں پر بالو لادتا آرہاہے ۔ سب جانتا ہے چاہے امام دن آئے یا جنوا ۔

زینب اب آنسو پونچھ کر ساری کے پلو سے پیسے کھول کر رام سینہی کودینے لگی تھی ۔

’’بتائے گی نہیں جنو; کیاتیرے میرے بیچ صرف بالو کاسمبندھ ہے ;;‘‘ اس کے لہجے میں اتنی اپنا یت تھی کہ زینب کاجی چاہا پھررونے لگے اوراس بار باقاعدہ بھیں بھیں کرکے ۔ لیکن وہ روئی نہیں رلائی چھپانے کو زور سے ہنس پڑی ۔ ’’ نہیں رے صرف باتوں کا سمبند ھ کاہے ہوگا ۔ گدھوں کا بھی ہے ۔ ‘‘ اس کے لہجے میں کاٹ تھی ۔

رام سینہی بھی ہنسنے لگا، اوردھوتی کی کمر میں سِلی چھوٹی سی تھیلی میں روپئے رکھ کر تھیلی پھرکمر میں کھونس لی ۔ ’’چلتے ہیں ۔ اور رونادھونا بند کر ۔ جیون ایسے ہی چلتاہے ۔ ‘‘ وہ ناءو میں جابیٹھا اور موٹر آن کر کے ایک بھرپور نگاہ زینب کی طرف پھینکی ۔

ہاں جیون ایسے ہی چلتاہے ۔ زینب نے ٹھنڈی سانس بھری اور گدھے ہنکاتی آگے بڑھ گئی ۔

چوتھا دن بھی تمام ہونے کو ہوا ۔ امام دین کا آج بھی پتہ نہیں تھا ۔ اب زینب کوبھی پریشانی ہوئی ۔ اوراماں نے تورونے دھونے کے ساتھ بہو کوبرابھلا کہنابھی شروع کیا ۔

’’تونے ہی کچھ کہا ہوگا ۔ ہم سمجھتے نہیں کیا ۔ رات کوپٹھےپہ ہاتھ نہیں رکھنے دیتی ۔ آخر جوان مرد ہے ، کسی عورت کے پھیرے میں پڑگیا ہوگا ۔ ‘‘

چھوٹے سے گھر میں کوئی بات ڈھکی چھپی رہے بھی توکیسے ۔ بیٹا بہوکی کوٹھری کے سامنے ہی اماں اوسارے میں پلنگ ڈال کے پڑی رہتی تھیں ۔ کئی بار اما م دین زینب کو گالیاں دیتاہوا کمرے سے نکلاتھا ۔ ایک دن تویہ تک بول گیاتھا کہ کبھی کبھی توہ میں لگتاہے کہ لڑکے ہمارے نہیں ہیں ۔ آخرپورے پانچ سال تک ہمارا بیج کیوں نہیں پھوٹا ۔ جب دیکھو تب چارپائی سے دھکیل دیتی ہے ۔

دن بھر کی محنت ، اب تین چھوٹے بچے، ساس کے ہاتھ پاءوں دبانا، چولہا چکی، گدھوں کی دیکھ بھال، کمرے میں آتی توجی چاہتا کوئی بات تک نہ کرے ۔ چھونا کیسا ۔ ویسے بھی اما م دین چھچھوندر جیسا لگتاتھا ۔ گندا، لجلجا، مونہہ سے دیسی شراب کے بھبھکے ۔ مرد کہیں ایساہوتا ہے ۔ اللہ کی قدرت ہے اولاد دینا چاہے تو عورت کوچھونا بھر بہانہ بن جائے ۔ ورنہ اما م دین اور اولاد ۔ شک دراصل زینب پر نہیں اسے خود پر ہے ۔ آخر اس نے بچے پیدا کیسے کرلئے ۔

پانچویں دن دوایک ہمدردوں کی مددسے پولیس میں امام دین کی گمشدگی کی رپٹ درج کرائی ۔ یہی خیال تھاکہ گھر گرہستی چھوڑکے بھاگ گیاہے لیکن دس پندرہ دن بعدایک سنسان نالے سے اس کی لاش برآمد ہوئی جو ایک بوری میں بھری ہوئی تھی ۔ شاید نشہ خوروں کی ٹولی میں کوئی جھگڑا کسی فوری اشتعال کا سبب بناتھا ۔ اس لئے کہ کسی کوامام دین سے کسی دشمنی کاکوئی پتہ نہیں تھا ۔ وہ کام چور،نشیڑی ذمہ داریوں سے بھاگنے والا ، کچھ بھی ہو ۔ یوں سیدھا سادا سا انسان تھا جوہر نارمل انسان کی طرح بیوی کے علاوہ کسی سے جھگڑا نہیں کرتاتھا ۔

سب لوگوں کاخیال تھا کہ بیوی آئے گی تونشہ چھڑوادے گی ۔ زینب کے گھروالوں کابھی ۔ وہ اچھی بیوی ثابت نہیں ہوئی یہ سب نے مان لیا ۔ وہ توشوہر کوکھاہی گئی ۔ شادی کے بعد تواس کی شراب نوشی بڑھ گئی تھی ۔ یہ تو زینب ہی ہی جانتی تھی کہ اس نے نشہ زیادہ کرنا کیوں شروع کیاتھا لیکن شادی کے بعدکچھ وقت گذرگیا تھا تب یہ بات سمجھ میں آئی تھی ۔ اور ایسا نہیں تھا کہ اس نے کوشش نہیں کی تھی ۔ ایسا بھی نہیں تھا کہ اس نے شوہر سے بے وفائی کی تھی پھربھی اب وہ تیز طرارزبان لڑانے والی عورت بجھ کے رہ گئی تھی اور بے چوں چراسارے الزامات قبول کررہی تھی اورساری ذمہ داریاں بھی کہ اب وہ اپنے بچوں کا باپ بھی تھی ۔

امام دین کے سیوم کے بعداس نے جب گدھوں کوہنکا کر ان کارخ ندی کی طرف کیاتو اس نے پوری طرح اپنے لئے گداہن کالقب قبول کرلیاتھا اور دونوں ہاتھ کمر پہ رکھ کرکھڑی زندگی کی آنکھوں میں آنکھیں ڈال کردیکھ رہی تھی ۔

*****

Post a Comment

0 Comments